اگر گورنر راج لگا تو صورتحال ہاتھ سے نکل جائے گی: اسد قیصر

پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اسد قیصر نے اپنے حالیہ بیان میں خبردار کیا ہے کہ اگر حکومت نے گورنر راج نافذ کرنے کی کوشش کی تو حالات مزید خراب ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ سیاسی ماحول پہلے ہی کشیدہ ہے اور اگر ایسے وقت میں گورنر راج کا خدشہ بڑھایا گیا تو ملک میں مزید بے چینی پیدا ہوگی۔ ان کے مطابق سیاسی معاملات کو تصادم کے بجائے بات چیت سے حل کرنا ضروری ہے۔
اسد قیصر کا کہنا تھا کہ پرامن احتجاج عوام اور سیاسی جماعتوں کا جمہوری حق ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ پارلیمنٹ میں تقریر کرنا اور عوامی سطح پر سیاسی مؤقف بیان کرنا دو الگ معاملات ہیں، اور دونوں کو غلط انداز میں نہیں جوڑنا چاہیے۔ ان کے مطابق سیاسی آزادی اور اظہار رائے کا احترام ہر حکومت کی ذمہ داری ہے۔
انہوں نے سابق وزیراعظم کی تقاریر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ماضی میں سیاسی لہجہ سخت رہا ہے، لیکن اس کے باوجود کسی نے گورنر راج کی بات نہیں کی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ موجودہ حکومت کس آئینی اختیار کے تحت گورنر راج کا ذکر کر رہی ہے۔ ان کے مطابق ایسے بیانات غیر ضروری تناؤ پیدا کر رہے ہیں۔
مزید پڑھیں: فیلڈ مارشل عاصم منیر سے مصری وزیر خارجہ کی ملاقات، دفاعی تعاون بڑھانے پر زور
اسد قیصر نے خیبرپختونخوا کے مالی مسائل کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کو آج تک این ایف سی ایوارڈ میں مکمل حصہ نہیں دیا گیا اور نہ ہی آب پاشی کا خالص منافع ملا ہے۔ ان کے مطابق دیرینہ مالی مسائل کو حل کرنا وفاق اور صوبوں کے بہتر تعلقات کے لیے انتہائی ضروری ہے۔
اپنے بیان کے آخر میں انہوں نے خبردار کیا کہ اگر سیاسی معاملات کو سمجھداری سے نہ سنبھالا گیا اور گورنر راج کا خدشہ برقرار رہا تو مستقبل میں نتائج اچھے نہیں ہوں گے۔ ان کے مطابق ملک کو اس وقت انتشار نہیں بلکہ اتحاد اور بات چیت کی ضرورت ہے، اور تمام اداروں کو آئین کے مطابق اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔











